درگزر یوں خطا کرے کوئی
میرے حق میں دعا کرے کوئی
پھر بھی دل تک پہنچ ہی جاتا ہوں
لاکھ مجھ سے چھپا کرے کوئی
اس کو عادت ہے حق بیانی کی
اجتناب اس سے کیا کرے کوئی
میرے شعروں میں ذکر خار کا ہے
تبصرہ پھول کا کرے کوئی
آئینے کی طرح صداقت ہے
جھوٹ کو سچ کہا کرے کوئی
دل کے صحرا میں میری لیلی ہے
خاک بن کر اڑا کرے کوئی
فہد عہدِ وفا نبھاتے رہو
لاکھ تم سے دغا کرے کوئی

No comments:
Post a Comment