Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

فریاد آزر

یوم پیدائش 10 جولائی 1956

ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا 
میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا 

نہ جانے کون سی ادا بری لگی تھی روح کو 
بدن کا پھر تمام کھیل کود ختم ہو گیا 

معاہدے ضمیر سے تو کر لیے گئے مگر 
مسرتوں کا دورۂ وفود ختم ہو گیا 

بدن کی آستین میں یہ روح سانپ بن گئی 
وجود کا یقیں ہوا وجود ختم ہو گیا 

بس اک نگاہ ڈال کر میں چھپ گیا خلاؤں میں 
پھر اس کے بعد برف کا جمود ختم ہو گیا 

مجاز کا سنہرا حسن چھا گیا نگاہ پر 
کھلی جو آنکھ جلوۂ شہود ختم ہو گیا

فریاد آزر



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...