Urdu Deccan

Thursday, September 29, 2022

عزیر زاہد

یوم پیدائش 29 سپتمبر 2000

میری ہر بات پہ کہتی ہو کہ اچھا کیا ہے!
پہلے بتلاؤ کہ تم نے مجھے سمجھا کیا ہے

کچھ نہیں کچھ بھی نہیں تیری توجہ کے بغیر
تیری آنکھیں نہ رہیں تو مِرا چہرہ کیا ہے

یونہی پھرتے رہو اُس خواب کنارے ہر دم
پھر کہیں تم پہ کُھلے گا کہ وہ دریا کیا ہے

ملکوں ملکوں تو پھر آئے ہو مرے دوست مگر 
گر گلی اسکی نہیں دیکھی تو دیکھا کیا ہے

پوچھنے آتے ہیں سڑکوں پہ ٹہلتے سائے
رات ساری تُو یہاں جاگ کے کرتا کیا ہے

اے دو عالم کے خدا اب تو بتا اپنی جا
اے قریبِ رگِ جاں بول یہ پردہ کیا ہے

بھرگیا ہوں جو لبالب کسی خوشبو سے عزیر
بند کھڑکی سے مِرے پھول نے بھیجا کیا ہے

عزیر زاہد



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...