Urdu Deccan

Thursday, September 29, 2022

صائمہ علی

یوم وفات 22 سپتمبر 1970

گلِ نشاط میں رکھا نہ فصلِ غم کو دیا
صبائے عشق نے خوشبو کا ظرف ہم کو دیا

عجب سکوں ہے طبیعت میں جب سے اس دل نے
تری خوشی کی ضمانت میں اپنے غم کو دیا

زبانِ خلق نے کیا کیا نہ ہم کو نام دھرے
کرم کا نام جو ہم نے ترے ستم کو دیا

بہت ملال سے کہتی ہیں اب تری آنکھیں
یہ کیسے چاند کو ہم نے شبانِ غم کو دیا

اب ایک بھیگی چمک رہتی ہے سرِ مژگاں
کہا تھا اس نے کبھی میری چشمِ نم کو دیا

صائمہ علی


 

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...