Urdu Deccan

Friday, September 23, 2022

سراج آغازی جبلپور

یوم پیدائش 13 سپتمبر 1957

ہم تری راہ میں ثابت قَدَمی سیکھ گئے
نقشِ پا پڑھکے ترے راہبری سیکھ گئے

مکتَبِ عشق میں ہر چال تری سیکھ گئے
"ہم کہ چھوٹے ہیں مگر بات بڑی سیکھ گئے"

ہے نئے دور کی آوارہ ہواؤں کا اثر
تھے مہذب جو سبھی بے اَدَبی سیکھ گئے

مشکلیں کر کے وہ تقسیم پریشاں ہی رہے
مشکلیں جھیل کے ہم چارہ گری سیکھ گئے

غیر تو غیر تھے اپنوں کی نظر سے بھی گرے
بات ہم وقت پہ جب کرنا کھری سیکھ گئے

سوگئے ہم جو نمائش کدے میں رکھکے عصا
بچّے اس شہر کے سب جادوگری سیکھ گئے

پڑھکے آیاتِ وِلا کرتے ہی دم ان پہ سراج
دلّگی بھول کے وہ دل کی لگی سیکھ گئے

 سراج آغازی جبلپور


 

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...