ہم تری راہ میں ثابت قَدَمی سیکھ گئے
نقشِ پا پڑھکے ترے راہبری سیکھ گئے
مکتَبِ عشق میں ہر چال تری سیکھ گئے
"ہم کہ چھوٹے ہیں مگر بات بڑی سیکھ گئے"
ہے نئے دور کی آوارہ ہواؤں کا اثر
تھے مہذب جو سبھی بے اَدَبی سیکھ گئے
مشکلیں کر کے وہ تقسیم پریشاں ہی رہے
مشکلیں جھیل کے ہم چارہ گری سیکھ گئے
غیر تو غیر تھے اپنوں کی نظر سے بھی گرے
بات ہم وقت پہ جب کرنا کھری سیکھ گئے
سوگئے ہم جو نمائش کدے میں رکھکے عصا
بچّے اس شہر کے سب جادوگری سیکھ گئے
پڑھکے آیاتِ وِلا کرتے ہی دم ان پہ سراج
دلّگی بھول کے وہ دل کی لگی سیکھ گئے

No comments:
Post a Comment