Urdu Deccan

Thursday, September 29, 2022

عادل اسیر دہلوی

یوم پیدائش 21 سپتمبر 1959

دیکھو غریب کتنی زحمت اٹھا رہا ہے 
گلیوں میں بھیڑ والی رکشا چلا رہا ہے 

محروم ہے اگرچہ دنیا کی نعمتوں سے 
ہر بوجھ زندگی کا ہنس کر اٹھا رہا ہے
 
برسات میں بھی دیکھو پھرتا ہوا سڑک پر 
رکشا بھی بھیگتا ہے خود بھی نہا رہا ہے
 
گرمی کی دھوپ میں بھی رکتا نہیں ہے گھر میں 
پر پیچ راستوں کے پھیرے لگا رہا ہے 

سردی سے کانپتا ہے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں 
ٹھنڈی ہوا سے خود کو کیسے بچا رہا ہے 

مستی میں دوڑتا ہے رکشا لیے سڑک پر 
نغمہ کوئی سریلا اب گنگنا رہا ہے 

رکشے کے پیڈلوں پر رکھے ہیں پاؤں دونوں 
آنکھیں ہیں راستے پر گھنٹی بجا رہا ہے
 
ماں باپ منتظر ہیں گھر پر سبھی کے عادلؔ 
بچوں کو اب وہ لینے اسکول جا رہا ہے

عادل اسیر دہلوی


 

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...