Urdu Deccan

Monday, December 12, 2022

عنبر بستوی

یوم پیدائش 06 دسمبر 

بہتے پانی پر کب تک کاغذ کی ناؤ جلاؤ گے
مجھ کو دھوکہ دینے والے خود ہی دھوکہ کھاؤ گے

جیسا بویا ہے تم نے اب ویسا ہی پھل پاؤ گے
پیڑ لگا کر نیم کا بولو آم کہاں سے لاؤ گے

رات کو میرے خوابوں میں تم اکثر آتے رہتے ہو
جان تمنا بولو کب تک یوں مجھ کو ٹرپاؤ گے

آتنا مت مغرور بنو تم آج بلندی پر جا کر
وقت کی مار سے تم بھی اک دن دھرتی پر آجاؤ گے

ٹھیک نہیں ہے ظلم و ستم ہر روز غریبوں پر ڈھانا
ان کی آنہوں سے اک دن تم مٹی میں مل جاؤ گے

جیتے جی ماں باپ کی عزت کرنا سیکھ لو اے بیٹے
دنیا میں جب یہ نہ رہیں گے تو ہر پل پچتھاؤ گے

شیشہ ہو تو پتھر کے اس شہر سے جاکر دور رہو
ورنہ پتھر سے ٹکرا کر ٹکروں میں بٹ جاؤ گئے

دوست نہیں ہو سکتے کبھی وہ جنکی فطرت الگ رہے
تم ہو آندھی تو دیپک کا کیسے ساتھ نبھاؤ گے

غم کی دھوپ مٹانی ہو تو عنبر سے اک وعدہ لو
نفرت کے اس جنگل میں تم پیار کے پیڑ لگاؤ گے

عنبر بستوی



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...