Urdu Deccan

Sunday, January 15, 2023

نادر اسلوبی

یوم پیدائش 09 جنوری 

خوشی کو کہتے ہیں دن، غم کو رات کہتے ہیں
اسی قبولِ اثر کو حیات کہتے ہیں

ہمارا جینا اسی واسطے ضروری ہے
ہماری مات کو وہ اپنی مات کہتے ہیں

یہی گلہ ہے انہیں بھی کہ ہر غزل میں ہم
چھپاتے کچھ نہیں، ہر ایک بات کہتے ہیں

تکلفات بھی آتے ہیں درمیان اکثر
وہ ایک ساتھ کہاں اپنی بات کہتے ہیں

انہیں سمجھنے میں ہوں اس لئے بھی میں نا کام
وہ میرے آگے کہاں ساری بات کہتے ہیں

خیال ولفظ پرکھنے کا جن کو ہے ملکہ
 وہ لفظ لفظ کو اک کائنات کہتے ہیں
 
کبھی وہ روٹھتے ہیں روٹھتے کبھی ہم ہیں
اس انقلاب کو نادر حیات کہتے ہیں

نادر اسلوبی



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...