خوشی کو کہتے ہیں دن، غم کو رات کہتے ہیں
اسی قبولِ اثر کو حیات کہتے ہیں
ہمارا جینا اسی واسطے ضروری ہے
ہماری مات کو وہ اپنی مات کہتے ہیں
یہی گلہ ہے انہیں بھی کہ ہر غزل میں ہم
چھپاتے کچھ نہیں، ہر ایک بات کہتے ہیں
تکلفات بھی آتے ہیں درمیان اکثر
وہ ایک ساتھ کہاں اپنی بات کہتے ہیں
انہیں سمجھنے میں ہوں اس لئے بھی میں نا کام
وہ میرے آگے کہاں ساری بات کہتے ہیں
خیال ولفظ پرکھنے کا جن کو ہے ملکہ
وہ لفظ لفظ کو اک کائنات کہتے ہیں
کبھی وہ روٹھتے ہیں روٹھتے کبھی ہم ہیں
اس انقلاب کو نادر حیات کہتے ہیں

No comments:
Post a Comment