Urdu Deccan

Monday, January 25, 2021

میلہ رام وفا

 یوم پیدائش 26 جنوری 1895


محفل میں اِدھر اور اُدھر دیکھ رہے ہیں

ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں


عالم ہے ترے پَرتو رُخ سے یہ ہمارا

حیرت سے ہمیں شمس و قمر دیکھ رہے ہیں


بھاگے چلے جاتے ہیں اِدھر کو تو عجب کیا

رُخ لوگ ہواؤں کا جدھر دیکھ رہے ہیں


ہوگی نہ شبِ غم تو قیامت سے ادھر ختم

ہم شام ہی سے راہ سحر دیکھ رہے ہیں


وعدے پہ وہ آئیں یہ توقع نہیں ہم کو

رہ رہ کے مگر جانبِ در دیکھ رہے ہیں


شکوہ کریں غیروں کا تو کس منہ سے کریں ہم

بدلی ہوئی یاروں کی نظر دیکھ رہے ہیں


شاید کہ اسی میں ہو وفاؔ خیر ہماری

برپا جو یہ ہنگامۂ شر دیکھ رہے ہیں

 ​

میلہ رام وفاؔ


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...