یوم پیدائش01 فروری 1975
مریضِ عشق تھےجیتے رہے دوا کے بغیر
بھنور میں ڈال دی ناؤ بھی ناخدا کے بغیر
بجھا رہی ہے اگر وہ تو پھر بتاؤ مجھے
کبھی چراغ بھی جلتا ہے کیا ہَوا کے بغیر
بدن تو ٹوٹ رہا تھا مگر انا تھی ابھی
تمہارے در سے پلٹ آئے ہم صدا کے بغیر
وہ مثلِ خواب تھا آنکھیں کھلیں تو چھوڑ گیا
کہاں سے ڈھونڈ کے لاتا میں نقشِ پاکے بغیر
بچھڑ کے مجھ سے اُسے کوئی دیوتا نہ ملا
جوانی کاٹ دی میں نے بھی اپسرا کے بغیر
گلہ میں کس سے کروں اب جو تُو ملا ہی نہیں
اُٹھائے ہاتھ تھے میں نے مگر دعا کے بغیر
گناہ گار ہے ارشد یہ مانتا ہے مگر
پرندہ پَر کہاں مارے تری رضا کے بغیر
ارشد محمود ارشد

No comments:
Post a Comment