Urdu Deccan

Monday, February 1, 2021

ارشد محمود ارشد


 یوم پیدائش01 فروری 1975


مریضِ عشق تھےجیتے رہے دوا کے بغیر

بھنور میں ڈال دی ناؤ بھی ناخدا کے بغیر 


بجھا رہی ہے اگر وہ تو پھر بتاؤ مجھے 

کبھی چراغ بھی جلتا ہے کیا ہَوا کے بغیر 


بدن تو ٹوٹ رہا تھا مگر انا تھی ابھی

تمہارے در سے پلٹ آئے ہم صدا کے بغیر 


وہ مثلِ خواب تھا آنکھیں کھلیں تو چھوڑ گیا 

کہاں سے ڈھونڈ کے لاتا میں نقشِ پاکے بغیر


بچھڑ کے مجھ سے اُسے کوئی دیوتا نہ ملا

جوانی کاٹ دی میں نے بھی اپسرا کے بغیر 


گلہ میں کس سے کروں اب جو تُو ملا ہی نہیں

اُٹھائے ہاتھ تھے میں نے مگر دعا کے بغیر 


گناہ گار ہے ارشد یہ مانتا ہے مگر

پرندہ پَر کہاں مارے تری رضا کے بغیر 


ارشد محمود ارشد

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...