یوم پیدائش 05 فروری 1967
ہم باغ تمنا میں دن اپنے گزار آئے
آئے نہ بہار آخر شاید نہ بہار آئے
رنگ ان کے تلون کا چھایا رہا محفل پر
کچھ سینہ فگار اٹھے کچھ سینہ فگار آئے
فطرت ہی محبت کی دنیا سے نرالی ہے
ہو درد سوا جتنا اتنا ہی قرار آئے
کیا حسن طبیعت ہے کیا عشق کی زینت ہے
دل مٹ کے قرار آئے رنگ اڑ کے نکھار آئے
در سے ترے ٹکرایا اک نعرۂ مستانہ
بے نام لیے تیرا ہم تجھ کو پکار آئے
تصویر بنی دیکھی اک جان تمنا کی
آنسو مری آنکھوں میں کیا سلسلہ وار آئے
کچھ ان سے نہ کہنا ہی تھی فتح محبت کی
جیتی ہوئی بازی کو ہم جان کے ہار آئے
اس درجہ وہ پیارے ہیں کہتے ہی نہیں بنتا
کیا اور کہا جائے جب اور بھی پیار آئے
اس بزم میں ہم آخر پہنچے بھی تو کیا پایا
دل ہی کی دبی چوٹیں کچھ اور ابھار آئے
ارم لکھنوی

No comments:
Post a Comment