Urdu Deccan

Saturday, February 6, 2021

ارم لکھنوی

 یوم پیدائش 05 فروری 1967


ہم باغ تمنا میں دن اپنے گزار آئے

آئے نہ بہار آخر شاید نہ بہار آئے 


رنگ ان کے تلون کا چھایا رہا محفل پر

کچھ سینہ فگار اٹھے کچھ سینہ فگار آئے 


فطرت ہی محبت کی دنیا سے نرالی ہے

ہو درد سوا جتنا اتنا ہی قرار آئے 


کیا حسن طبیعت ہے کیا عشق کی زینت ہے

دل مٹ کے قرار آئے رنگ اڑ کے نکھار آئے 


در سے ترے ٹکرایا اک نعرۂ مستانہ

بے نام لیے تیرا ہم تجھ کو پکار آئے 


تصویر بنی دیکھی اک جان تمنا کی

آنسو مری آنکھوں میں کیا سلسلہ وار آئے 


کچھ ان سے نہ کہنا ہی تھی فتح محبت کی

جیتی ہوئی بازی کو ہم جان کے ہار آئے 


اس درجہ وہ پیارے ہیں کہتے ہی نہیں بنتا

کیا اور کہا جائے جب اور بھی پیار آئے


اس بزم میں ہم آخر پہنچے بھی تو کیا پایا

دل ہی کی دبی چوٹیں کچھ اور ابھار آئے


ارم لکھنوی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...