Urdu Deccan

Thursday, June 3, 2021

شبلی نعمانی

 یوم پیدائش 03 جون 1857


پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھا

رخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھا


شب فرقت میں دل غمزدہ بھی پاس نہ تھا

وہ بھی کیا رات تھی کیا عالم تنہائی تھا


میں تھا یا دیدۂ خوننابہ فشانی شب ہجر

ان کو واں مشغلۂ انجمن آرائی تھا


پارہ ہائے دل خونیں کی طلب تھی پیہم

شب جو آنکھوں میں مری ذوق خود آرائی تھا


رحم تو ایک طرف پایہ شناسی دیکھو

قیس کو کہتے ہیں مجنون تھا صحرائی تھا


آنکھیں قاتل سہی پر زندہ جو کرنا ہوتا

لب پہ اے جان تو اعجاز مسیحائی تھا


خون رو رو دیے بس دو ہی قدم میں چھالے

یاں وہی حوصلۂ بادیہ پیمائی تھا


دشمن جاں تھے ادھر ہجر میں درد و غم و رنج

اور ادھر ایک اکیلا ترا شیدائی تھا


انگلیاں اٹھتی تھیں مژگاں کی اسی رخ پیہم

جس طرف بزم میں وہ کافر ترسائی تھا


کون اس راہ سے گزرا ہے کہ ہر نقش قدم

چشم عاشق کی طرح اس کا تماشائی تھا


خوب وقت آئے نکیرین جزا دے گا خدا

لحد تیرہ میں بھی کیا عالم تنہائی تھا


ہم نے بھی حضرت شبلیؔ کی زیارت کی تھی

یوں تو ظاہر میں مقدس تھا پہ شیدائی تھا


شبلی نعمانی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...