پیٹھ پیچھے سے وار کرتے ہیں
ایسا کیوں میرے یار کرتے ہیں
کیسے دن آ گئے مرے پیارے
مجھ سے ملنے سے عار کرتے ہیں
دشمنوں کا تو نام فرضی ہے
جو بھی اپنے ہیں خوار کرتے ہیں
گرچہ نفرت مرا مقدر ہے
آؤ ہم سب سے پیار کرتے ہیں
بیٹھ کر قیس کی گلی میں ہم
عشق کو بے قرار کرتے ہیں
شعر ایسے ہی میرے ہوتے ہیں
سب کو ہی سوگوار کرتے ہیں
عشق میں ہار کے یہ بچے کیوں
موت خود پر سوار کرتے ہیں
آپ کیوں چھیڑتے ہیں ماضی کو
کیوں مجھے تار تار کرتے ہیں
ریاض حازم

No comments:
Post a Comment