Urdu Deccan

Thursday, June 3, 2021

ریاض خازم

 پیٹھ پیچھے سے وار کرتے ہیں

ایسا کیوں میرے یار کرتے ہیں 


کیسے دن آ گئے مرے پیارے

مجھ سے ملنے سے عار کرتے ہیں


دشمنوں کا تو نام فرضی ہے

جو بھی اپنے ہیں خوار کرتے ہیں


گرچہ نفرت مرا مقدر ہے

آؤ ہم سب سے پیار کرتے ہیں


بیٹھ کر قیس کی گلی میں ہم

عشق کو بے قرار کرتے ہیں


شعر ایسے ہی میرے ہوتے ہیں

سب کو ہی سوگوار کرتے ہیں


عشق میں ہار کے یہ بچے کیوں

موت خود پر سوار کرتے ہیں


آپ کیوں چھیڑتے ہیں ماضی کو

کیوں مجھے تار تار کرتے ہیں


ریاض حازم


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...