Urdu Deccan

Tuesday, June 1, 2021

ادیب سہارنپوری

 یوم پیدائش 28 مئی 1920


اک خلش کو حاصل عمر رواں رہنے دیا

جان کر ہم نے انہیں نامہرباں رہنے دیا


آرزوئے قرب بھی بخشی دلوں کو عشق نے

فاصلہ بھی میرے ان کے درمیاں رہنے دیا


کتنی دیواروں کے سائے ہاتھ پھیلاتے رہے

عشق نے لیکن ہمیں بے خانماں رہنے دیا


اپنے اپنے حوصلے اپنی طلب کی بات ہے

چن لیا ہم نے تمہیں سارا جہاں رہنے دیا


کون اس طرز جفاۓ آسماں کی داد دے

باغ سارا پھونک ڈالا آشیاں رہنے دیا


یہ بھی کیا جینے میں جینا ہے بغیر ان کے ادیبؔ

شمع گل کر دی گئی باقی دھواں رہنے دیا


ادیب سہارنپوری


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...