یوم پیدائش 08 جولائی 1897
ہزار کفر ہیں اک چشم پارسا میں تری
بھری ہوئی ہے شرارت ادا ادا میں تری
بقا کو اپنی مشیت تری سمجھتا ہوں
مری حیات قضا کار ہے رضا میں تری
مرے حبیب مری آخرت کے اے ضامن
مرے نصیب کی جنت ہے خاک پا میں تری
یہ کس مقام سے تو نے خطاب فرمایا
سنی گئی مری آواز بھی صدا میں تری
یہ سوچ کر نہ منورؔ نے کچھ کیا شکوہ
وفا کی داد کا پہلو بھی ہے جفا میں تری
منور لکھنوی

No comments:
Post a Comment