Urdu Deccan

Friday, July 16, 2021

جاوید عارف

 وقت کے آلام میں ہر شخص ہے الجھا ہوا

میں اکیلے ہی نہیں وحشت زدہ ٹوٹا ہوا


اے مسیحا چھوڑ دے اب حال پر اپنے مجھے 

زخمِ دل چارہ گر ی سے اور بھی گہرا ہوا 


آگ گلشن میں لگائی سرکشوں نے ہی مگر

سر کسی معصوم کا ہے دار پر لٹکا ہوا 


موت کی دہلیز کے آگے کھڑی ہے زندگی 

میں ابھی ہوں مال و زر کی حرص میں الجھا ہوا


برق سے پہلے ہوا نے سازشیں کی اس قدر

راکھ کی صورت نشیمن ہے مرا،بکھرا ہوا


دیکھ کر وحشت زدہ ہوں میں چمن کے حال پر

شاخِ گل ہے باغباں کے خوف سے سہما ہوا 


لاکھ تدبیریں کی عارف کچھ نہیں بدلا مگر

جو مقدر میں خدا نے تھا مرے لکھا ہوا


  جاوید عارف


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...