Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

جمیل نظر

 یوم پیدائش 12 دسمبر 1925


حوصلے اپنے رہنما تو ہوئے

حادثے غم کا آسرا تو ہوئے


بے وفا ہی سہی زمانے میں

ہم کسی فن کی انتہا تو ہوئے


وادئ غم کے ہم کھنڈر ہی سہی

آنے والوں کا راستہ تو ہوئے


کچھ تو موجیں اٹھی سمندر سے

بے سبب ہی سہی خفا تو ہوئے


ان کو اپنا ہی غم سہی لیکن

وہ کسی غم میں مبتلا تو ہوئے


خود کو بیگانہ کر کے دنیا سے

چند چہروں سے آشنا تو ہوئے


خندۂ گل ہوئے کہ شعلۂ جاں

حال پہ میرے لب کشا تو ہوئے


پتھروں کے نگر میں جا کے نظرؔ

کم سے کم سنگ آشنا تو ہوئے


جمیل نظر


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...