Urdu Deccan

Friday, December 31, 2021

عزم بہزاد

 یوم پیدائش 31 دسمبر 1958


کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں

میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں


ایک نگاہ کا سناٹا ہے اک آواز کا بنجر پن

میں کتنا تنہا بیٹھا ہوں قربت کے ویرانے میں


آج اس پھول کی خوشبو مجھ میں پیہم شور مچاتی ہے

جس نے بے حد عجلت برتی کھلنے اور مرجھانے میں


ایک ملال کی گرد سمیٹے میں نے خود کو پار کیا

کیسے کیسے وصل گزارے ہجر کا زخم چھپانے میں


جتنے دکھ تھے جتنی امیدیں سب سے برابر کام لیا

میں نے اپنے آئندہ کی اک تصویر بنانے میں


ایک وضاحت کے لمحے میں مجھ پر یہ احوال کھلا

کتنی مشکل پیش آتی ہے اپنا حال بتانے میں


پہلے دل کو آس دلا کر بے پروا ہو جاتا تھا

اب تو عزمؔ بکھر جاتا ہوں میں خود کو بہلانے میں


عزم بہزاد


(عزم بہزاد نے تیسرا شعر اپنی بیٹی کے لئے کہا تھا ، جس کا کم عمری میں ہی ایکسیڈنٹ کی وجہ سے انتقال ہو گیا )


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...