Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

نریش کمار شاد

 یوم پیدائش 11 دسمبر 1927


بدگماں مجھ سے نہ اے فصل بہاراں ہونا

میری عادت ہے خزاں میں بھی گل افشاں ہونا


میرے غم کو بھی دل آویز بنا دیتا ہے

تیری آنکھوں سے مرے غم کا نمایاں ہونا


کیوں نہ پیار آئے اسے اپنی پریشانی پر

سیکھ لے جو تری زلفوں سے پریشاں ہونا


میرے وجدان نے محسوس کیا ہے اکثر

تیری خاموش نگاہوں کا غزل خواں ہونا


یہ تو ممکن ہے کسی روز خدا بن جائے

غیر ممکن ہے مگر شیخ کا انساں ہونا


اپنی وحشت کی نمائش مجھے منظور نہ تھی

ورنہ دشوار نہ تھا چاک گریباں ہونا


رہرو شوق کو گمراہ بھی کر دیتا ہے

بعض اوقات کسی راہ کا آساں ہونا


کیوں گریزاں ہو مری جان پریشانی سے

دوسرا نام ہے جینے کا پریشاں ہونا


جن کو ہمدرد سمجھتے ہو ہنسیں گے تم پر

حال دل کہہ کے نہ اے شادؔ پشیماں ہونا


نریش کمار شاد


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...