یوم پیدائش 11 دسمبر 1927
بدگماں مجھ سے نہ اے فصل بہاراں ہونا
میری عادت ہے خزاں میں بھی گل افشاں ہونا
میرے غم کو بھی دل آویز بنا دیتا ہے
تیری آنکھوں سے مرے غم کا نمایاں ہونا
کیوں نہ پیار آئے اسے اپنی پریشانی پر
سیکھ لے جو تری زلفوں سے پریشاں ہونا
میرے وجدان نے محسوس کیا ہے اکثر
تیری خاموش نگاہوں کا غزل خواں ہونا
یہ تو ممکن ہے کسی روز خدا بن جائے
غیر ممکن ہے مگر شیخ کا انساں ہونا
اپنی وحشت کی نمائش مجھے منظور نہ تھی
ورنہ دشوار نہ تھا چاک گریباں ہونا
رہرو شوق کو گمراہ بھی کر دیتا ہے
بعض اوقات کسی راہ کا آساں ہونا
کیوں گریزاں ہو مری جان پریشانی سے
دوسرا نام ہے جینے کا پریشاں ہونا
جن کو ہمدرد سمجھتے ہو ہنسیں گے تم پر
حال دل کہہ کے نہ اے شادؔ پشیماں ہونا
نریش کمار شاد
No comments:
Post a Comment