Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

ناز خیالوی

 یوم پیدائش 12 دسمبر 1947 


دل کا ہر زخم جواں ہو تو غزل ہوتی ہے 

درد نس نس میں رواں ہو تو غزل ہوتی ہے 


دل میں ہو شوق ملاقات کا طوفان بپا 

اور رستے میں چناں ہو تو غزل ہوتی ہے 


شوق حسرت کے شراروں سے جلا پاتا ہے 

جان جاں دشمن جاں ہو تو غزل ہوتی ہے 


کچھ بھی حاصل نہیں یک طرفہ محبت کا جناب 

ان کی جانب سے بھی ہاں ہو تو غزل ہوتی ہے 


شوکت فن کی قسم حسن تخیل کی قسم 

دل کے کعبے میں اذاں ہو تو غزل ہوتی ہے 


میں اگر ان کے خد و خال میں کھو جاؤں کبھی 

وہ کہیں ناز کہاں ہو تو غزل ہوتی ہے


ناز خیالوی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...