یوم پیدائش 12 دسمبر 1947
دل کا ہر زخم جواں ہو تو غزل ہوتی ہے
درد نس نس میں رواں ہو تو غزل ہوتی ہے
دل میں ہو شوق ملاقات کا طوفان بپا
اور رستے میں چناں ہو تو غزل ہوتی ہے
شوق حسرت کے شراروں سے جلا پاتا ہے
جان جاں دشمن جاں ہو تو غزل ہوتی ہے
کچھ بھی حاصل نہیں یک طرفہ محبت کا جناب
ان کی جانب سے بھی ہاں ہو تو غزل ہوتی ہے
شوکت فن کی قسم حسن تخیل کی قسم
دل کے کعبے میں اذاں ہو تو غزل ہوتی ہے
میں اگر ان کے خد و خال میں کھو جاؤں کبھی
وہ کہیں ناز کہاں ہو تو غزل ہوتی ہے
ناز خیالوی
No comments:
Post a Comment