Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

امجد اسلام امجد

 یہ کون آج مِری آنکھ کے حصار میں ہے

مجھے لگا کہ زمیں میرے اختیار میں ہے


چراغِ رنگِ نوا‘ اب کہیں سے روشن ہو

سکوتِ شامِ سفر‘ کب سے انتظار میں ہے


کچھ اِس طرح ہے تری بزم میں یہ دل‘ جیسے

چراغِ شامِ خزاں‘ جشنِ نو بہار میں ہے


مِری حیات کے سارے سفر پہ بھاری ہے

وہ ایک پل جو تری چشمِ اعتبار میں ہے


جو اُٹھ رہا ہے کسی بے نشان صحرا میں

نشانِ منزلِ ہستی اُسی غبار میں ہے


ہماری کشتی ٔ دل میں بھی اب نہیں وہ زور

تمہارے حسن کا دریا بھی اب اُتار میں ہے


کبھی ہے دُھوپ کبھی ابرِ خوش نما امجد

عجب طرح کا تلون مزاجِ یار میں ہے


امجد اسلام امجد


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...