Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

اسد ملتانی

 یوم پیدائش 13 دسمبر 1909


ان عقل کے بندوں میں آشفتہ سری کیوں ہے

یہ تنگ دلی کیوں ہے یہ کم نظری کیوں ہے


اسرار اگر سمجھے دنیا کی ہر اک شے کے

خود اپنی حقیقت سے یہ بے خبری کیوں ہے


سو جلوے ہیں نظروں سے مانند نظر پنہاں

دعویٔ جہاں بینی اے دیدہ وری کیوں ہے


حل جن کا عمل سے ہے پیکار و جدل سے ہے

ان زندہ مسائل پر بحث نظری کیوں ہے


تو دیکھ ترے دل میں ہے سوز طلب کتنا

مت پوچھ دعاؤں میں یہ بے اثری کیوں ہے


اے گل جو بہار آئی ہے وقت خود آرائی

یہ رنگ جنوں کیسا یہ جامہ دری کیوں ہے


واعظ کو جو عادت ہے پیچیدہ بیانی کی

حیراں ہے کہ رندوں کی ہر بات کھری کیوں ہے


ملتا ہے اسے پانی اشکوں کی روانی ہے

معلوم ہوا کھیتی زخموں کی ہری کیوں ہے


الفت کو اسدؔ کتنا آسان سمجھتا تھا

اب نالۂ شب کیوں ہے آہ سحری کیوں ہے


اسد ملتانی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...