یوم پیدائش 13 دسمبر 1894
جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو
زمیں پہ رہ کے نہ تم آسماں کی بات کرو
کسی کی تابش رخسار کا کہو قصہ
کسی کے گیسوئے عنبر فشاں کی بات کرو
نہیں ہوا جو طلوع آفتاب تو فی الحال
قمر کا ذکر کرو کہکشاں کی بات کرو
رہے گا مشغلۂ یاد رفتگاں کب تک
گزر رہا ہے جو اس کارواں کی بات کرو
یہی جہان ہے ہنگامہ زار سود و زیاں
یہیں کے سود یہیں کے زیاں کی بات کرو
اب اس چمن میں نہ صیاد ہے نہ ہے گلچیں
کرو تو اب ستم باغباں کی بات کرو
عبد المجید سالک
No comments:
Post a Comment