Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

عبد المجید سالک

 یوم پیدائش 13 دسمبر 1894


جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو

زمیں پہ رہ کے نہ تم آسماں کی بات کرو


کسی کی تابش‌ رخسار کا کہو قصہ

کسی کے گیسوئے عنبر فشاں کی بات کرو


نہیں ہوا جو طلوع آفتاب تو فی الحال

قمر کا ذکر کرو کہکشاں کی بات کرو


رہے گا مشغلۂ یاد رفتگاں کب تک

گزر رہا ہے جو اس کارواں کی بات کرو


یہی جہان ہے ہنگامہ زار سود و زیاں

یہیں کے سود یہیں کے زیاں کی بات کرو


اب اس چمن میں نہ صیاد ہے نہ ہے گلچیں

کرو تو اب ستم باغباں کی بات کرو


عبد المجید سالک


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...