Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی

 یوم پیدائش 13 دسمبر 1866


اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے

ہے اس میں اک طلسم تمنا کہیں جسے


اک شکل ہے تفنن طبع جمال کی

اس سے زیادہ کچھ نہیں دنیا کہیں جسے


خمیازہ ہے کرشمہ پرستئ دہر کا

اہل زمانہ عالم عقبیٰ کہیں جسے


اک اشک ارمیدۂ ضبط غم فراق

موج ہوائے شوق ہے دریا کہیں جسے


باوصف ضبط راز محبت ہے آشکار

عقدہ ہے دل کا عقد ثریا کہیں جسے


برہم زن حجاب ہے خود رفتگی حسن

اک شان بے خودی ہے زلیخا کہیں جسے


عکس صفائے قلب کا جوہر ہے آئینہ

وارفتۂ جمال خود آرا کہیں جسے


رم شیوہ ہے صنم تو ہے رم آشنا یہ دل

حاصل ہے مجھ کو عیش مہیا کہیں جسے


خونی کفن یہ سینت کے رکھا ہے کس لیے

قاتل وہ ہے کہ رشک مسیحا کہیں جسے


سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں دہر کا وجود

کیفیؔ یہ بات وہ ہے معما کہیں جسے


  پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...