یوم پیدائش 13 دسمبر 1866
اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے
ہے اس میں اک طلسم تمنا کہیں جسے
اک شکل ہے تفنن طبع جمال کی
اس سے زیادہ کچھ نہیں دنیا کہیں جسے
خمیازہ ہے کرشمہ پرستئ دہر کا
اہل زمانہ عالم عقبیٰ کہیں جسے
اک اشک ارمیدۂ ضبط غم فراق
موج ہوائے شوق ہے دریا کہیں جسے
باوصف ضبط راز محبت ہے آشکار
عقدہ ہے دل کا عقد ثریا کہیں جسے
برہم زن حجاب ہے خود رفتگی حسن
اک شان بے خودی ہے زلیخا کہیں جسے
عکس صفائے قلب کا جوہر ہے آئینہ
وارفتۂ جمال خود آرا کہیں جسے
رم شیوہ ہے صنم تو ہے رم آشنا یہ دل
حاصل ہے مجھ کو عیش مہیا کہیں جسے
خونی کفن یہ سینت کے رکھا ہے کس لیے
قاتل وہ ہے کہ رشک مسیحا کہیں جسے
سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں دہر کا وجود
کیفیؔ یہ بات وہ ہے معما کہیں جسے
پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی
No comments:
Post a Comment