Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

رشید قیصرانی

 یوم پیدائش 13 دسمبر 1930


چاہت کا سنسار ہے جھوٹا پیار کے سات سمندر جھوٹ

ساری دنیا بول رہی ہے کتنے سندر سندر جھوٹ


اشکوں کو موتی کہتا ہوں رخساروں کو پھول

میں لفظوں کا سوداگر ہوں میرے باہر اندر جھوٹ


کھوٹے سکے لے کر گھومیں ہم دونوں بازاروں میں

تیری آنکھ کے موتی جھوٹے میرے من کا مندر جھوٹ


میں نے کہا جلووں کا مسکن اجلے چہرے اونچی ذات

سب نے کہا تم سچ کہتے ہو بولا ایک قلندر جھوٹ


دنیا بھر میں ایک حقیقت سچا ایک وجود رشیدؔ

ورنہ سارے جنگل پربت صحرا اور سمندر جھوٹ


رشید قیصرانی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...