یوم پیدائش 13 دسمبر 1930
چاہت کا سنسار ہے جھوٹا پیار کے سات سمندر جھوٹ
ساری دنیا بول رہی ہے کتنے سندر سندر جھوٹ
اشکوں کو موتی کہتا ہوں رخساروں کو پھول
میں لفظوں کا سوداگر ہوں میرے باہر اندر جھوٹ
کھوٹے سکے لے کر گھومیں ہم دونوں بازاروں میں
تیری آنکھ کے موتی جھوٹے میرے من کا مندر جھوٹ
میں نے کہا جلووں کا مسکن اجلے چہرے اونچی ذات
سب نے کہا تم سچ کہتے ہو بولا ایک قلندر جھوٹ
دنیا بھر میں ایک حقیقت سچا ایک وجود رشیدؔ
ورنہ سارے جنگل پربت صحرا اور سمندر جھوٹ
رشید قیصرانی
No comments:
Post a Comment