Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

چندر بھان کیفی دہلوی

 یوم پیدائش 1878


کیا حسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیرا

کہتے ہیں جسے مصر وہ بازار ہے تیرا


تقدیر اسی کی ہے نصیبہ ہے اسی کا

جس آنکھ سے کچھ وعدۂ دیدار ہے تیرا


تا زیست نہ ٹوٹے وہ مرا عہد وفا ہے

تا حشر نہ پورا ہو وہ اقرار ہے تیرا


برچھی کی طرح دل میں کھٹکتی ہیں ادائیں

انداز جو قاتل دم رفتار ہے تیرا


کیا تو نے کھلائے چمن بزم میں کیفیؔ

کیا رنگ گل افشائی گفتار ہے تیرا


چندر بھان کیفی دہلوی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...