یوم پیدائش 13 دسمبر 1963
دل کو سنا رہا ہوں میں اک داستانِ خوف
پھر چھا رہا ہے سر پہ مرے آسمانِ خوف
دیوانگی شوق پہ سکتہ سا چھا گیا
راہ جنوں میں مل گئے کچھ کارونِ خوف
خوفِ خدا پہ کرتے تھے تنقید رات دن
آئی وبا تو کانپ اٹھے ناقدانِ خوف
بے خوف پھر رہے تھے زمانے میں سارے لوگ
سب کے دلوں پہ چھا گیا پھر اک جہانِ خوف
جاری ہیں فتنہ سازیاں ایوانِ شاہ میں
اور ڈر کے مر رہے ہیں یہاں صاحبانِ خوف
خوفِ خدا سے دل ہے ہمارا بھرا ہوا
کیا لے گی ہم سے زندگی اب امتحانِ خوف
خوفِ خدا نکل چکا جن کے قلوب سے
ارشد وہ بن کے بیٹھے ہیں اب ترجمانِ خوف
ارشد شرفی
No comments:
Post a Comment