Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

ارشد شرفی

 یوم پیدائش 13 دسمبر 1963


دل کو سنا رہا ہوں میں اک داستانِ خوف

پھر چھا رہا ہے سر پہ مرے آسمانِ خوف


دیوانگی شوق پہ سکتہ سا چھا گیا

راہ جنوں میں مل گئے کچھ کارونِ خوف


خوفِ خدا پہ کرتے تھے تنقید رات دن

آئی وبا تو کانپ اٹھے ناقدانِ خوف


بے خوف پھر رہے تھے زمانے میں سارے لوگ

سب کے دلوں پہ چھا گیا پھر اک جہانِ خوف


جاری ہیں فتنہ سازیاں ایوانِ شاہ میں

اور ڈر کے مر رہے ہیں یہاں صاحبانِ خوف


خوفِ خدا سے دل ہے ہمارا بھرا ہوا

کیا لے گی ہم سے زندگی اب امتحانِ خوف


خوفِ خدا نکل چکا جن کے قلوب سے

 ارشد وہ بن کے بیٹھے ہیں اب ترجمانِ خوف

 

ارشد شرفی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...