Urdu Deccan

Tuesday, February 8, 2022

تنہا تماپوری

 یوم پیدائش 06 فروری 1937


اسے جینے کا لالچ ہے نہ وہ مرنے سے ڈرتا ہے

تو کیا یہ شخص بھی گم نامیوں کی موت مرتا ہے


عجب ویرانیٔ دل ہے سسکتا ہے وہاں کوئی

اب ایسے بحر تنہائی سے وہ کس پار اترتا ہے


وہاں کس کی نظر جاتی ہے اک دو چار کانٹوں پر

جہاں اک پیڑ جو پھولوں کے گہنوں سے سنورتا ہے


حصار لمس کی لذت میں کھویا ہے بدن اس کا

یہ قیدی کیا کبھی اس جال سے بچ کر گزرتا ہے


عجب ہے ایک سنگ بے نوا سی دوستی اس کی

نہ یہ اس سے مکرتا ہے نہ وہ اس کو اکھرتا ہے


وہ برگ بے شجر اپنے قبیلے سے جدا ہو کر

ہواؤں کے تھپیڑوں سے لرزتا اور بکھرتا ہے


ابھی تک تو سگ اظہار وہ مجھ پر نہیں چھوڑا

مری آرائش گفتار کے نشتر سے ڈرتا ہے


یہ مشکل بات بھی لیکن بڑا آسان نسخہ بھی

نہیں نفرت کسی سے بھی سبھی سے پیار کرتا ہے


تنہا تماپوری


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...