یوم پیدائش 06 فروری 1937
اسے جینے کا لالچ ہے نہ وہ مرنے سے ڈرتا ہے
تو کیا یہ شخص بھی گم نامیوں کی موت مرتا ہے
عجب ویرانیٔ دل ہے سسکتا ہے وہاں کوئی
اب ایسے بحر تنہائی سے وہ کس پار اترتا ہے
وہاں کس کی نظر جاتی ہے اک دو چار کانٹوں پر
جہاں اک پیڑ جو پھولوں کے گہنوں سے سنورتا ہے
حصار لمس کی لذت میں کھویا ہے بدن اس کا
یہ قیدی کیا کبھی اس جال سے بچ کر گزرتا ہے
عجب ہے ایک سنگ بے نوا سی دوستی اس کی
نہ یہ اس سے مکرتا ہے نہ وہ اس کو اکھرتا ہے
وہ برگ بے شجر اپنے قبیلے سے جدا ہو کر
ہواؤں کے تھپیڑوں سے لرزتا اور بکھرتا ہے
ابھی تک تو سگ اظہار وہ مجھ پر نہیں چھوڑا
مری آرائش گفتار کے نشتر سے ڈرتا ہے
یہ مشکل بات بھی لیکن بڑا آسان نسخہ بھی
نہیں نفرت کسی سے بھی سبھی سے پیار کرتا ہے
تنہا تماپوری
No comments:
Post a Comment