یوم پیدائش 09 مارچ 1953
محیط حسن جو اب دم بدم چڑھاؤ پہ ہے
چلا ہے گھر سے اکڑتا بڑے ہی تاؤ پہ ہے
مجھے بتا دے تو رہتا ہے کون سے گھر میں
کہ جس کے کوٹھے سے کوٹھا ترا لگاؤ پہ ہے
اٹھا کے آنکھ کسے دیکھنے کی تاب ہے آہ
نشست یار اگرچہ بڑے دکھاؤ پہ ہے
ہم اس کی بزم کی حسرت میں ہاتھ ملتے ہیں
یہ جوں جوں سنتے ہیں مجلس بڑے جماؤ پہ ہے
نہ پوچھو بحر محبت میں کچھ ہمارا حال
جو کچھ ہے آفت دریا سو اپنی ناؤ پہ ہے
غضنفرؔ اس سے تو کر لیجو عرض حال اپنا
ابھی نہ بول کہ غصہ میں ہے وہ تاؤ پہ ہے
سید غضنفر علی غضنفر

No comments:
Post a Comment