Urdu Deccan

Tuesday, April 12, 2022

مرزا ادیب

 یوم پیدائش 04 اپریل 1914


حال اپنا سنا کے دیکھ لیا 

اور آنسو بہا کے دیکھ لیا 


کون سنتا ہے ہم غریبوں کی 

سب کو تو آزما کے دیکھ لیا 


ایک چھٹی بھی ہم کو مل نہ سکی 

نت بہانے بنا کے دیکھ لیا 


منہ جو کڑوا تھا وہ رہا کڑوا 

ہم نے لڈو بھی کھا کے دیکھ لیا 


کھا رہے ہیں چرا کے ہم بسکٹ 

اور جو امی نے آ کے دیکھ لیا 


ننھی دیتی نہیں ہے کھیر اپنی 

رو کے دیکھا رلا کے دیکھ لیا 


دل بہلتا نہیں کسی صورت 

گیت بھی آج گا کے دیکھ لیا


مرزا ادیب



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...