یوم پیدائش 04 اپریل 1914
حال اپنا سنا کے دیکھ لیا
اور آنسو بہا کے دیکھ لیا
کون سنتا ہے ہم غریبوں کی
سب کو تو آزما کے دیکھ لیا
ایک چھٹی بھی ہم کو مل نہ سکی
نت بہانے بنا کے دیکھ لیا
منہ جو کڑوا تھا وہ رہا کڑوا
ہم نے لڈو بھی کھا کے دیکھ لیا
کھا رہے ہیں چرا کے ہم بسکٹ
اور جو امی نے آ کے دیکھ لیا
ننھی دیتی نہیں ہے کھیر اپنی
رو کے دیکھا رلا کے دیکھ لیا
دل بہلتا نہیں کسی صورت
گیت بھی آج گا کے دیکھ لیا
مرزا ادیب

No comments:
Post a Comment