مری جبیں پہ شکن دیکھ ، اضطراب بھی دیکھ
جو مجھ میں آگ سا بھڑکے وہ انقلاب بھی دیکھ
یہ رخ کا چاند، بدن کے ستارے، دیکھتا کیا ؟
کبھی تو روح میں آ کر، تو آفتاب بھی دیکھ
یہ ملگجے سے ، بدن پر لباس ، لفاظی
مہکتی روح کے اندر ،حسیں گلاب بھی دیکھ
الجھ نہ ،تن کے نشیب و فراز میں ناداں
لبوں سے سرخ، چھلکتی ہوئی، شراب بھی دیکھ
دماغ، دل سے مخاطب ہوا ، یہ کہتے ہوئے
سوال کر ہی چکا ہے، تو پھر جواب بھی دیکھ
تمام دنیا کی بیباکیوں کے شیدائی
تمام دنیا پہ نازل ہوا عتاب بھی دیکھ

No comments:
Post a Comment