Urdu Deccan

Friday, July 15, 2022

علیم اطہر

یوم پیدائش 05 جولائی 1971

مری جبیں پہ شکن دیکھ ، اضطراب بھی دیکھ
جو مجھ میں آگ سا بھڑکے وہ انقلاب بھی دیکھ

یہ رخ کا چاند، بدن کے ستارے، دیکھتا کیا ؟
کبھی تو روح میں آ کر، تو آفتاب بھی دیکھ

یہ ملگجے سے ، بدن پر لباس ، لفاظی 
مہکتی روح کے اندر ،حسیں گلاب بھی دیکھ

 الجھ نہ ،تن کے نشیب و فراز میں ناداں
لبوں سے سرخ، چھلکتی ہوئی، شراب بھی دیکھ

دماغ، دل سے مخاطب ہوا ، یہ کہتے ہوئے
سوال کر ہی چکا ہے، تو پھر جواب بھی دیکھ

تمام دنیا کی بیباکیوں کے شیدائی
تمام دنیا پہ نازل ہوا عتاب بھی دیکھ

علیم اطہر۔



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...