Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

ریحان اعظمی

یوم پیدائش 07 جولائی 1958

عشق کا زخم جو منت کشِ مرہم ہوتا
عید کے روز بھی ہر گھر میں محرم ہوتا

ڈر نہ ہوتا جو کہیں عشق میں رسوائی کا
ساتھ عشاق کے اک حلقۂ ماتم ہوتا

آتشِ عشق میں جلنے کا مزا اپنا ہے
تم نہ ہوتے تو یہ شعلہ ہمیں شبنم ہوتا

ہم تو مر جاتے تڑپ کر غمِ تنہائی سے
سلسلہ آپ کی یادوں کا اگر کم ہوتا

صبر، ایثار، محبت، غمِ دنیا، غمِ دل
سوچتا ہوں کہ مِرا کوئی تو ہمدم ہوتا

لشکرِ رنج و مصائب کے مقابل تنہا
کون ہوتا جو نہ مجھ میں کہیں دم خم ہوتا

ہجر آثار ہواؤں سے فراغت کے لیے
کوئی لمحہ کوئی رُت کوئی تو موسم ہوتا

شاعری سے جو الگ ہوتا تعارف ریحان
نامکمل یہ تعارف بڑا مبہم ہوتا

ریحان اعظمی


 

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...