Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

ضیا ضمیر

یوم پیدائش 07 جولائی 1977

تک رہا ہے تو آسمان میں کیا 
ہے ابھی تک کسی اڑان میں کیا 

وہ جو اک تجھ کو جاں سے پیارا تھا 
اب بھی آتا ہے تیرے دھیان میں کیا 

کیا نہیں ہوگی پھر مری تکمیل 
کوئی تجھ سا نہیں جہان میں کیا 

ہم تو تیری کہانی لکھ آئے 
تو نے لکھا ہے امتحان میں کیا 

ہو ہی جاتے ہیں جب جدا دونوں 
پھر تعلق ہے جسم و جان میں کیا 

ہم قفس میں ہیں اڑنے والے بتا 
ہے وہی لطف آسمان میں کیا 

پڑھ رہے ہو جو اتنی غور سے تم 
کچھ نیاپن ہے داستان میں کیا 

اردو والے کمال دکھتے ہیں 
کوئی جادو ہے اس زبان میں کیا

ضیا ضمیر



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...