Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

بدیع الزماں سحر

یوم پیدائش 11 جولائی 1944

ہو پیاس سلامت مئے گلفام بہت ہے 
مے خانہ بہت ساقی بہت جام بہت ہے 

ان تافتہ زلفوں کو پریشاں نہ کرو تم 
اے جان ستم گردش ایام بہت ہے 

کیوں طور پہ موقوف ہو باران تجلی 
اس جلوۂ تاباں کے لئے بام بہت ہے 

اک وہ ہیں کہ ہر ظلم روا ان کے لئے ہے 
اک آہ بھری میں نے تو کہرام بہت ہے 

آزادیٔ پرواز پہ اترا نہیں بلبل 
گلشن کی فضاؤں میں ابھی دام بہت ہے  

آسان نہیں جادۂ عرفان محبت
ہر گام رہ شوق میں ابہام بہت ہے 

کیوں مجھ کو صدا دیتا ہے افلاک سے ہاتف 
اس انجمن گل میں ابھی کام بہت ہے 

مت بیچ اسے مصر کا بازار سجا کر 
اس یوسف ہستی کا سحرؔ دام بہت ہے

بدیع الزماں سحر


 

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...