عجب یہ حکمرانی ہو رہی ہے
گرانی ہی گر انی ہو رہی ہے
ڈرامہ ہی ڈامہ ہے سیاست
کہانی ہی کہانی ہو رہی ہے
ملازم لے کے رشوت ہے سمجھتا
خدا کی مہربانی ہور ہی ہے
جدھر دیکھو جہازوں کی ہے بھرمار
وطن کی پاسبانی ہو رہی ہے
عجب جدت کی زد میں ہے یہ فیشن
جو بندہ تھا زنانی ہو رہی ہے
کہا سن کر غزل نقاد نے یہ
روایت ہے، پرانی ہورہی ہے
دل وجاں بیچ کر زاھد بحالو
محبت آنجہانی ہو رہی ہے

No comments:
Post a Comment