Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

زاہد بلائی

یوم پیدائش 11 جولائی 1968

عجب یہ حکمرانی ہو رہی ہے
گرانی ہی گر انی ہو رہی ہے

ڈرامہ ہی ڈامہ ہے سیاست
کہانی ہی کہانی ہو رہی ہے

ملازم لے کے رشوت ہے سمجھتا
خدا کی مہربانی ہور ہی ہے

جدھر دیکھو جہازوں کی ہے بھرمار
وطن کی پاسبانی ہو رہی ہے

عجب جدت کی زد میں ہے یہ فیشن 
جو بندہ تھا زنانی ہو رہی ہے

 کہا سن کر غزل نقاد نے یہ
  روایت ہے، پرانی ہورہی ہے
  
دل وجاں بیچ کر زاھد بحالو
محبت آنجہانی ہو رہی ہے 

زاہد بلائی



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...