Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

عدیل زیدی

یوم پیدائش 06 جولائی 1958

یہ اعجازِ دیر و حرم دیکھتے ہیں
جو دیکھا نہ جائے وہ ہم دیکھتے ہیں

دکھاؤ ہمیں کوئی پُرامن بستی
یہ سب کچھ توہم دم بہ دم دیکھتے ہیں

سنا ہے کہ محشر بپا وہ کرے گا
چلو چل کے اس کے کرم دیکھتے ہیں

محبت سے شاید پکارے کوئی پھر
پلٹ کر بہت گھر کو ہم دیکھتے ہیں

تھا دشوار نظروں کا ہٹنا جدھر سے
ہم اب اس طرف کم سے کم دیکھتے ہیں

دیے جارہے ہیں ثبوتِ وفا وہ
تو لہجے کا ہم زیرِ و بم دیکھتے ہیں

بظاہر عدیل اس سے رشتے بہت ہیں
رکھے گا وہ کتنا بھرم دیکھتے ہیں

عدیل زیدی



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...