یہ اعجازِ دیر و حرم دیکھتے ہیں
جو دیکھا نہ جائے وہ ہم دیکھتے ہیں
دکھاؤ ہمیں کوئی پُرامن بستی
یہ سب کچھ توہم دم بہ دم دیکھتے ہیں
سنا ہے کہ محشر بپا وہ کرے گا
چلو چل کے اس کے کرم دیکھتے ہیں
محبت سے شاید پکارے کوئی پھر
پلٹ کر بہت گھر کو ہم دیکھتے ہیں
تھا دشوار نظروں کا ہٹنا جدھر سے
ہم اب اس طرف کم سے کم دیکھتے ہیں
دیے جارہے ہیں ثبوتِ وفا وہ
تو لہجے کا ہم زیرِ و بم دیکھتے ہیں
بظاہر عدیل اس سے رشتے بہت ہیں
رکھے گا وہ کتنا بھرم دیکھتے ہیں

No comments:
Post a Comment