Urdu Deccan

Sunday, July 17, 2022

عاطف رئیس صدیقی

یوم پیدائش 06 جولائی 

اُس شخص ہی سے عشق دوبارہ کرو گے تم
تنکے کو یعنی پھر سے سہارا کرو گے تم

سوچو تو کیسے گزرے گی اب زندگی تمام 
کیسے ہمارے بعد گزارا کرو گے تم

سگریٹ, اداسی, اشک, دکھن, ہجر اور غم
اِس سب کے ساتھ جینا گوارا کرو گے تم؟

دنیا سے کٹ کے جھیل پہ بیٹھو گے سارا دن
کنکر ہی پانیوں میں یوں مارا کرو گے تم

آسان بھی نہیں ہے مجھے بھول جانا یار
ان کوششوں میں روز ہی ہارا کرو گے تم

نقصان جو دلوں کا ہوا, اُس کی خیر ہے
لیکن جو زندگی کا خسارا کرو گے تم؟

رکّھے ہوئے ہیں لوگ یہاں جاں ہتھیلی پر
ہلکا سا صرف ایک اشارہ کرو گے تُم

ہر ایک چیز ہو گی وہاں آنسوؤں سے تر
جِن وادیوں میں ذکر ہمارا کرو گے تم

میں جانتا ہوں یاد تمھیں میری آئے گی
جب ٹہنیوں سے پھول اتارا کرو گے تُم

عاطف رئیس صدیقی



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...