Urdu Deccan

Saturday, August 20, 2022

ذیشان الہی

یوم پیدائش 12 اگست 1990

بس تری حد سے تجھے آگے رسائی نہیں دی
میں نے گالی تو کوئی اے مرے بھائی نہیں دی

مجھکو ہر فکر سے آزاد سمجھنے والے
میرے ماتھے کی شکن تجھکو دکھائی نہیں دی

دل میں اک شور اٹھا ہاتھ چھڑانے سے ترے 
دیر تک پھر کوئی آواز سنائی نہیں دی

پھول کاڑھے ہیں مرے تلووں پہ وحشت نے مری
تپتے صحرا نے مجھے آبلہ پائی نہیں دی

ایک دوجے سے یوں وابستہ ہوئے ہم دونوں 
میں نے چاہا نہیں اس نے بھی رہائی نہیں دی

وصل آیا تھا ترے ہجر کا سودا کرنے
عشق کی ہم نے مگر پہلی کمائی نہیں دی

ہاتھ کیا سوچ کے کھینچا ہے ستم سے اس نے
میں نے زخموں کی تو ذیشان دہائی نہیں دی

ذیشان الہی



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...