Urdu Deccan

Saturday, October 22, 2022

جمشید مسرور

یوم پیدائش 04 اکتوبر 1946

ہٹ کے اس رہ سے جو ہے وقف بس انکار کے نام 
آؤ پھر شعر کہیں گیسوئے دلدار کے نام 

زہر غم لے تو چلا جاں کو مگر تشنہ لبی 
جرعہ اک اور تمنائے لب یار کے نام 

رسم عشاق ہے یہ اس کو نبھائیں ہم بھی 
ورق جاں کو لکھیں شعلۂ رخسار کے نام 

وہ کرے قتل تو اندیشۂ دشنام نہیں 
ہر رگ جاں کو کریں دشنہ و تلوار کے نام 

شہر پابندیٔ آداب لگا حکم کوئی 
چاک دامن ہے مرا رونق بازار کے نام 

چوب بے برگ سہی دفتر شہہ میں لیکن 
پھول کھلتے ہی رہیں گے سبد دار کے نام 

خواب زاروں پہ رہے دھوپ کے منظر پیہم 
کوئی سورج نہ جلا قریۂ بیدار کے نام 

ہم نے جمشیدؔ لکھے عمر کے سارے موسم 
اس کے ہونٹوں پہ بھٹکتے ہوئے اقرار کے نام

جمشید مسرور

 

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...