Urdu Deccan

Monday, October 24, 2022

شاہین مفتی

یوم پیدائش 12 اکتوبر 1954

اگر یہ روشنی قلب و نظر سے آئی ہے 
تو پھر شبیہ ستم گر کدھر سے آئی ہے 

مہک رہا ہے بدن مانگ میں ستارے ہیں 
شب فراق بتا کس کے گھر سے آئی ہے 

گلوں میں رنگ تو خون جگر سے آیا ہے 
مگر یہ تازگی اس چشم تر سے آئی ہے 

روش روش پہ کچھ ایسے ٹہل رہی ہے صبا 
کہ جیسے ہو کے تری رہ گزر سے آئی ہے 

اسے تو گوشۂ مخصوص میں سنبھال کے رکھ 
کرن ہے کوچۂ شمس و قمر سے آئی ہے

شاہین مفتی


 

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...