ظہورِ اول، ظہورِ آخر، ظہورِ شمس و قمر سے پہلے
انہیﷺ کا چرچا تھا لامکاں میں ہجومِ شام و سحر سے پہلے
مرے نبیﷺ کو بنا کے رحمت، خدا نے بھیجا ہے کل جہاں میں
کرم کی کلیاں چٹک رہی ہیں، چمن میں شاخِ کرم سے پہلے
یہ کہکشاں تو غبارِ رہ ہے، حضورﷺ کی رفعتیں نہ پوچھو
نصیب چمکے تھے عرش والو، ورودِ خیرالبشرﷺ سے پہلے
انہیﷺ کے نقشِ قدم سے کیا کیا چراغ روشن ہیں شہرِ جاں میں
ذرا یہ پوچھو تو ہمنشینو! کسی کے قلب و جگر سے پہلے
وہﷺ جانتے ہیں تڑپ رہا ہے غریب شاعر پسِ حوادث
چراغِ رہ بھی ضرور دیں گے حضورﷺ اذنِ سفر سے پہلے
جہان والو! بغور سن لو! مرے بھی آقاﷺ ہیں شاہِ طیبہ
سنیں گے فریاد بے کسوں کی، فغانِ خونِ جگر سے پہلے
ہے سامنے روضۂ مبارک مگر نگاہیں جھکی ہوئی ہیں
نصابِ حُبِّ نبیﷺ تو پڑھ لے، کہو تم اپنی نظر سے پہلے
بڑے ادب سے درود پڑھ کر سلام کہنا، ضرور کہنا
دعاؤ آقاﷺ کے در پہ جانا، حدودِ بابِ اثر سے پہلے
صبا ابھی تک درِ نبیﷺ پر کھڑی ہے میری بیاض لے کر
کلام میرا پہنچ چکا ہے، ریاضؔ مجھ بے ہنر سے پہلے
مری متاعِ ہنر یہی ہے، ریاضؔ زادِ سفر یہی ہے
جو اشک جلتے ہیں میری آنکھوں کی چلمنوں میں سحر سے پہلے
ریاضؔ نامہ سیہ ہے اپنا مگر تمنا ہے عاصیوں کی
عقیدتوں کے ہوں پھول دامن میں میرے حکمِ سفر سے پہلے

No comments:
Post a Comment