ہوئے تھے خوابوں کے معمار بھی اکیلے ہی
تو اب گرائیں یہ میناربھی اکیلے ہی
کسی کی پور پہ رکنے کی آس میں آنسو
ڈھلک گیا سرِ _رخسار بھی اکیلے ہی
الجھ رہا تھا تلاطم سے کیسے کچا گھڑا
گواہ تھا کوئی اُس پار بھی اکیلے ہی
یہ عشق شامل ِ دستورِ قصر ہو کہ نہ ہو
ہے سرخرو تہہِ دیوار بھی اکیلے ہی
جب ایک ضرب ہی ٹھہری ہے جیت کی منصف
تو رن میں جائیں گے اس بار بھی اکیلے ہی
یہ کہہ کے اٹھ گئے چوپال سے پرانے لوگ
سنیں گے اب تو سماچاربھی اکیلے ہی

No comments:
Post a Comment