Urdu Deccan

Tuesday, November 22, 2022

عابدہ تقی

یوم پیدائش 11 نومبر 1969

ہوئے تھے خوابوں کے معمار بھی اکیلے ہی
تو اب گرائیں یہ میناربھی اکیلے ہی

کسی کی پور پہ رکنے کی آس میں آنسو
ڈھلک گیا سرِ _رخسار بھی اکیلے ہی

الجھ رہا تھا تلاطم سے کیسے کچا گھڑا
گواہ تھا کوئی اُس پار بھی اکیلے ہی

یہ عشق شامل ِ دستورِ قصر ہو کہ نہ ہو
ہے سرخرو تہہِ دیوار بھی اکیلے ہی

جب ایک ضرب ہی ٹھہری ہے جیت کی منصف
تو رن میں جائیں گے اس بار بھی اکیلے ہی

یہ کہہ کے اٹھ گئے چوپال سے پرانے لوگ
سنیں گے اب تو سماچاربھی اکیلے ہی

عابدہ تقی



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...