Urdu Deccan

Thursday, December 22, 2022

بلراج بخشی

یوم پیدائش 10 دسمبر 1949

کہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھا 
وہ چاہتا تو میں دانستہ ہار سکتا تھا 

زمین پاؤں سے میرے لپٹ گئی ورنہ 
میں آسمان سے تارے اتار سکتا تھا 

جلا رہی ہیں جسے تیز دھوپ کی نظریں 
وہ ابر باغ کی قسمت سنوار سکتا تھا 

عجیب معجزہ کاری تھی اس کی باتوں میں 
کہ وہ یقیں کے جزیرے ابھار سکتا تھا

مرے مکان میں دیوار ہے نہ دروازہ 
مجھے تو کوئی بھی گھر سے پکار سکتا تھا 

پر اطمینان تھیں اس کی رفاقتیں بلراجؔ 
وہ آئینے میں مجھے بھی اتار سکتا تھا

بلراج بخشی



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...