Urdu Deccan

Thursday, December 22, 2022

عتیق انظر

یوم پیدائش 11 دسمبر 1963

اندر اندر سلگ رہا ہوں میں 
وہ سمجھتا ہے بجھ گیا ہوں میں 

آندھیوں میں پلا بڑھا ہوں میں
اب ہواؤں سے ڈر رہا ہوں میں 

بعد میرے شب قیامت ہے 
طاق میں آخری دیا ہوں میں 

اپنے مرنے کا غم نہیں مجھ کو 
سانپ کو مار کر مرا ہوں میں 

کیوں مجھے دیکھتے ہو نفرت سے 
عشق کے واسطے بنا ہوں میں 

جس سے کل ٹوٹ کر گرے تھے تم
اب اسی شاخ پر کھلا ہوں میں 

اک امر بیل مجھ سے لپٹی ہے 
اور اب تک ہرا بھرا ہوں میں 

ہوگئی شام وہ نہیں لوٹی
راہ چڑیا کی دیکھتا ہوں میں
 
 عتیق انظر


 

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...