اندر اندر سلگ رہا ہوں میں
وہ سمجھتا ہے بجھ گیا ہوں میں
آندھیوں میں پلا بڑھا ہوں میں
اب ہواؤں سے ڈر رہا ہوں میں
بعد میرے شب قیامت ہے
طاق میں آخری دیا ہوں میں
اپنے مرنے کا غم نہیں مجھ کو
سانپ کو مار کر مرا ہوں میں
کیوں مجھے دیکھتے ہو نفرت سے
عشق کے واسطے بنا ہوں میں
جس سے کل ٹوٹ کر گرے تھے تم
اب اسی شاخ پر کھلا ہوں میں
اک امر بیل مجھ سے لپٹی ہے
اور اب تک ہرا بھرا ہوں میں
ہوگئی شام وہ نہیں لوٹی
راہ چڑیا کی دیکھتا ہوں میں

No comments:
Post a Comment