Urdu Deccan

Thursday, December 22, 2022

اسلم آزاد

یوم پیدائش 12 دسمبر 1948

کشت دل ویراں سہی تخم ہوس بویا نہیں 
خواہشوں کا بوجھ میں نے آج تک ڈھویا نہیں 

اس کی آنکھوں میں بچھا ہے سرخ تحریروں کا جال 
ایسا لگتا ہے کہ اک مدت سے وہ سویا نہیں 

خواب کی انجان کھڑکی میں نظر آیا تھا جو 
ذہن نے اس چہرۂ مانوس کو کھویا نہیں 

ایک مدت پر ملے بھی تو نہ ملنے کی طرح 
اس طرح خاموش ہو منہ میں زباں گویا نہیں 

میں نے اپنی خواہشوں کا قتل خود ہی کر دیا 
ہاتھ خون آلود ہیں ان کو ابھی دھویا نہیں 

دیکھ کر ہونٹوں پہ میرے مسکراہٹ کی لکیر 
وہ سمجھتے ہیں کہ اسلمؔ میں کبھی رویا نہیں

اسلم آزاد


 

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...