Urdu Deccan

Thursday, December 22, 2022

شاہد ذکی

یوم پیدائش 13 دسمبر 1974

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے 
میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے 

جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میں 
دور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے 

کیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائے 
آپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھے 

نیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہے 
اور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے 

میں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوں 
اور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھے 

میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں 
دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے 

وہ جو اس پار ہیں اس پار مجھے جانتے ہیں 
یہ جو اس پار ہیں اس پار سمجھتے ہیں مجھے 

میں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں 
اور یہ لوگ پر اسرار سمجھتے ہیں مجھے 

روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں 
ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے 

جرم یہ ہے کہ ان اندھوں میں ہوں آنکھوں والا 
اور سزا یہ ہے کہ سردار سمجھتے ہیں مجھے 

لاش کی طرح سر آب ہوں میں اور شاہدؔ 
ڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے

شاہد ذکی


 

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...