آنکھوں سے میری نیند اڑا کر چلا گیا
اک شخص مجھ کو خواب دکھا کر چلا گیا
میں تو ہمیشہ خود کو سمجھتی تھی اک چٹان
اک جھونکا آیا اور ہلا کر چلا گیا
اس نے کہا کہ کہنی پڑے گی مجھے غزل
کاغذ ، قلم ، دوات تھما کر چلا گیا
وہ آیا تھوڑی دور چلا اور اس کے بعد
رستے میں اک چراغ جلا کر چلا گیا
تم جس کے انتظار میں بیٹھی ہو اے سحرؔ
تم کو پتا بھی ہے کہ وہ آ کر چلا گیا

No comments:
Post a Comment