Urdu Deccan

Monday, December 12, 2022

ارم زہرا

یوم پیدائش 08 دسمبر 

میں لاجواب ہوں تجھے جواب سے نکال کر
میں بے حساب ہوں تجھے حساب سے نکال کر

ابھی تو رات بھر ہوں اپنی نیند کے خمار میں
ہے خواب پورا پھر کسی کو خواب سے نکال کر

مرے گلے میں جاکے جو فساد کا سبب بنے
وہ ہڈی پھینک آئی ہوں کباب سے نکال کر

جو میرے ہونٹ کی طرح کسی کی منتظر نہ تھی
میں لائی ہوں وہ پنکھڑی گلاب سے نکال کر

کسی کے انتظار میں تھی رات دن صلیب پر
میں خوش ہوں اپنے آپ کو عذاب سے نکال کر

 ارم الجھ کے رہ گئی تھی زندگی کے باب میں
 کتاب پوری ہے تجھے نصاب سے نکال کر
 
ارم زہرا



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...