میں لاجواب ہوں تجھے جواب سے نکال کر
میں بے حساب ہوں تجھے حساب سے نکال کر
ابھی تو رات بھر ہوں اپنی نیند کے خمار میں
ہے خواب پورا پھر کسی کو خواب سے نکال کر
مرے گلے میں جاکے جو فساد کا سبب بنے
وہ ہڈی پھینک آئی ہوں کباب سے نکال کر
جو میرے ہونٹ کی طرح کسی کی منتظر نہ تھی
میں لائی ہوں وہ پنکھڑی گلاب سے نکال کر
کسی کے انتظار میں تھی رات دن صلیب پر
میں خوش ہوں اپنے آپ کو عذاب سے نکال کر
ارم الجھ کے رہ گئی تھی زندگی کے باب میں
کتاب پوری ہے تجھے نصاب سے نکال کر

No comments:
Post a Comment