اس طرح دل میں کوئی جلوہ نشیں ہوتا ہے
جیسے آئینے میں اک عکسِ حسیں ہوتا ہے
ہم کو انجامِ محبت سے ڈرانے والو !
فکرِ انجام محبت میں کہیں ہوتا ہے ؟
اب ترے عشق میں حالت ہے یہ میرے دل کی
تیری قربت کا بھی احساس نہیں ہوتا ہے
رفعتِ بامِ ثریا پہ پہچنے والو !!
آخرش ! آدمی پیوندِ زمیں ہوتا ہے !
عمر کے ساتھ نہیں عشق و محبت مشروط
عشق جس عمر میں ہوتا ہے حسیں ہوتا ہے
عشق اس سجدے کا قائل ہی نہیں ہے شعبان
ایسا سجدہ کہ جو مرہونِ جبیں ہوتا ہے

No comments:
Post a Comment