مسئلے حل نہیں ہوئے میرے
تم مکمل نہیں ہوئے میرے
جن پلوں کے لیے وہ میرا تھا
بس وہی پل نہیں ہوئے میرے
کیا کروں گا میں کل بھی دنیا میں؟
تم اگر کل نہیں ہوئے میرے
میرے عاقِل تو غیر تھے لیکن
میرے پاگل، نہیں ہوئے میرے
چند آنکھیں مِری ہوئیں لیکن
ان کے کاجل نہیں ہوئے میرے
ان گنت باغ میرے ہیں پھر بھی
پھول اور پھل نہیں ہوئے میرے
روز اول بھی وہ بدن چھو کر
ہاتھ کیوں شَل نہیں ہوئے میرے
لفظ چندن کے جیسے بھی رکھ کر
شعر صندل نہیں ہوئے میرے
تُو بتا تیرے یار، تیرے ہیں؟
ٹھیک ہے چل نہیں ہوئے میرے

No comments:
Post a Comment